سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ باب: رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ . حدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ . حدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . حدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ : أَتَى رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْتَرَقْتُ . فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ . قَالَ : " أَصَبْتُ أَهْلِي . قَالَ : تَصَدَّقْ . قَالَ : وَاللَّهِ مَا لِي شَيْءٌ وَلَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ . قَالَ : اجْلِسْ . فَجَلَسَ ، فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا ؟ فَقَامَ الرَّجُلُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِهَذَا . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَلَى غَيْرِنَا ؟ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْءٌ . قَالَ : كُلُوهُ " .
´عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ` انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں تو بھسم ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ کہنے لگا : میں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ کر دو “ ، وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے ، فرمایا : ” بیٹھ جاؤ “ ، وہ بیٹھ گیا ، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے ؟ “ وہ شخص کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے صدقہ کر دو “ ، بولا : اللہ کے رسول ! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں ؟ اللہ کی قسم ! ہم بھوکے ہیں ، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ، فرمایا : ” اسے تم ہی کھا لو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں تو بھسم ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہنے لگا: میں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " صدقہ کر دو "، وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے، فرمایا: " بیٹھ جاؤ "، وہ بیٹھ گیا، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا، آپ صل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2394]
یہ دین و تقویٰ اور خشیت کا اثر تھا کہ یہ صحابی اس گناہ کو اپنے لیے جل جانے یا ہلاک ہونے سے تعبیر کر رہا تھا۔
امام اوزاعی نے کہا کہ اگر دو ماہ کے روزے رکھے تو قضا لازم نہیں۔
(1)
اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص نے رمضان المبارک میں دن کے وقت قصداً صحبت کی تھی کیونکہ بھول کر ایسا کرنے والا بالاتفاق گناہ گار نہیں۔
(2)
جلنے کا مطلب یہ ہے کہ اس گناہ کی بنا پر وہ قیامت کے دن آگ میں جلے گا۔
اس روایت سے امام مالک نے استدلال کیا ہے کہ رمضان میں جماع سے روزہ توڑنے والے کے ذمے صرف ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا ہے، دو ماہ کے روزے یا غلام کو آزاد کرنا نہیں، لیکن اس حدیث سے استدلال صحیح نہیں کیونکہ اس حدیث میں اختصار ہے۔
تفصیلی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’گردن آزاد کرو۔
‘‘ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔
آپ نے فرمایا: ’’ساٹھ مساکین کو کھانا کھلاؤ۔
‘‘ اس نے عرض کی: میرے پاس کچھ نہیں۔
اگرچہ اس روایت میں روزے رکھنے کا ذکر نہیں، تاہم دیگر روایات میں اس کی صراحت ہے۔
(فتح الباري: 208/4)
واضح رہے کہ کفارے کی ترتیب یہ ہے: ایک گردن آزاد کی جائے۔
اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں۔
اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانا جائے۔
یہ کفارہ اس شخص کے ذمے ہے جو روزے کی حالت میں دانستہ اپنی بیوی سے مباشرت کرے۔
دانستہ کھانے پینے سے روزہ توڑنے پر یہ کفارہ نہیں کیونکہ حدیث مباشرت کے متعلق ہے، کھانے پینے کو مباشرت پر قیاس کرنا صحیح نہیں، اس لیے کہ عبادات میں قیاس نہیں چلتا۔
اگرچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے روزہ توڑ دیا تو آپ نے یہ کفارہ بتایا لیکن یہ روایت مجمل ہے جسے دیگر روایات نے واضح کر دیا ہے کہ اس نے مباشرت کر کے روزہ توڑا تھا۔
(فتح الباري: 211/4)
البتہ بھول کر مباشرت کرنے پر کوئی کفارہ یا قضا نہیں ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اگر کوئی بھول کر رمضان میں روزہ کھول لے تو اس پر قضا اور کفارہ نہیں ہے۔
(المستدرك للحاكم: 430/1)
ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے جو رمضان کے دنوں میں تعلقات زن وشوہر قائم کرے اس پر کفارہ واجب ہے اگر یہ کام عمداً جان بوجھ کر کیا تو یہ آئمہ اربعہ کا اتفاقی مسئلہ میں اگر یہ کام نسیاناً بھول کر کیا تو احناف اور شوافع کے نزدیک قضاء اور کفارہ نہیں ہے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک روزہ ٹوٹ جائے گا اور کفارہ پڑے گا۔
شوافع اور حنابلہ کے نزدیک قضاء اور کفارہ صرف تعلقات سے روزہ توڑنے پر ہے کھانے پینے کی صورت میں صرف روزہ کی قضائی ہے کفارہ نہیں ہے اور احناف و مالکیہ کے نزدیک جماع اکل اور شرب تینوں صورتوں میں قضاء اور کفارہ ہے مالکیہ کے مشہور قول کے مطابق کفارہ میں صرف ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا گردن کی آزادی یا دو ماہ کے روزے نہیں رکھ سکتا۔
دوسرے قول کی روسے کھانے پینے کی صورت میں تینوں میں اختیار ہے اور جماع کی صورت میں صرف طعام ہے تیسرے قول کے مطابق ہر حالت میں اختیار ہے۔
جمہور آئمہ کے نزدیک اگر کوئی آدمی رمضان کے روزہ میں اس غلطی کا ارتکاب کر لے تو اگر وہ غلام آزد کرنے کی قدرت رکھتا ہو تو صحیح و سالم اور تندرست مسلمان غلام آزاد کرے۔
احناف کے نزدیک کافرغلام بھی آزاد کیا جا سکتا ہے اگر اس کی قدرت نہ ہو تو متواتر دو ماہ کے روزے رکھے، اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔
جمہور کے نزدیک کھانا ہر مسکین کے لیے ایک مدی یعنی پندرہ (15)
صاع، احناف کے نزدیک گندم کا نصف صاع یعنی تیس صاع اور باقی اجناس سے ساٹھ (60)
صاع جمہور کے نزدیک کفارہ مرد اور عورت دونوں پر ہے اور شوافع ااوزاعی کے نزدیک صرف مرد پر جمہور کے نزدیک فقر و فاقہ کی صورت میں کفارہ ساقط نہیں ہو گا استطاعت و مقدرت کے لیے ڈھیل اور رخصت مل جائے گی۔
لیکن عیسیٰ بن دینار مالکی اور شوافع کے ایک قول کے مطابق کفارہ ساقط ہو جائے گا اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفصیلی روایت کا ظاہری تقاضا یہی ہے اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور قول یہی ہے اور امام زہری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک کفارہ کا سقوط اس آدمی کے ساتھ خاص ہے۔
2۔
کفارہ اگر طعام ہو تو اس کی ادائیگی دوسرا آدمی کر سکتا ہے یعنی فقروفاقہ کی صورت میں صدقہ سے اس کا تعاون کیا جا سکتا ہے۔
3۔
اگر کفارہ دوسرا آدمی ادا کرے تو جس کی طرف سے کفارہ ادا کیا جا رہا ہے وہ اگر محتاج اور ضرورت مند ہے تو وہ بھی اور اس کے گھر والے بھی کھا سکتے ہیں۔