سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب كَفَّارَةِ مَنْ أَتَى أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ باب: رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2391
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ ، زَادَ الزُّهْرِيُّ : وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لَهُ خَاصَّةً ، فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنَ التَّكْفِيرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، والْأَوْزَاعِيُّ ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، عَلَى مَعْنَى ابْنِ عُيَيْنَةَ ، زَادَ فِيهِ الأَوْزَاعِيُّ : وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ ( کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم ) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے لیث بن سعد ، اوزاعی ، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» ” اور اللہ سے بخشش طلب کر “ کا اضافہ کیا ہے ۔