حدیث نمبر: 2391
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ ، زَادَ الزُّهْرِيُّ : وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا رُخْصَةً لَهُ خَاصَّةً ، فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا فَعَلَ ذَلِكَ الْيَوْمَ لَمْ يَكُنْ لَهُ بُدٌّ مِنَ التَّكْفِيرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، والْأَوْزَاعِيُّ ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، عَلَى مَعْنَى ابْنِ عُيَيْنَةَ ، زَادَ فِيهِ الأَوْزَاعِيُّ : وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ ( کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم ) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے لیث بن سعد ، اوزاعی ، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» ” اور اللہ سے بخشش طلب کر “ کا اضافہ کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2391
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (6710) صحيح مسلم (1111)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 12275) (صحیح) » (لیکن زہری کے بات خلاف اصل ہے)