حدیث نمبر: 2379
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِنَا يَكْرَهُ الْكُحْلَ لِلصَّائِمِ ، وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ يُرَخِّصُ أَنْ يَكْتَحِلَ الصَّائِمُ بِالصَّبِرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اعمش کہتے ہیں کہ` میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» ( ایک قسم کا سرمہ ہے ) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2379
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند حسن إلي الأعمش وضعيف إلي إبراهيم لأن الأعمش مدلس, ولم يصرح بالسماع, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18400، 18786) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´روزہ دار کے سوتے وقت سرمہ لگانے کا بیان۔`
اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی روزے دار کے سرمہ لگانے کو ناپسند کرتے نہیں دیکھا اور ابراہیم نخعی روزے دار کو «صبر» (ایک قسم کا سرمہ ہے) کے سرمے کی اجازت دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2379]
فوائد ومسائل:
روزے کی حالت میں آنکھ میں سرمہ لگانا یا دوا ڈال لینا جائز ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2379 سے ماخوذ ہے۔