حدیث نمبر: 2376
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلَا مَنِ احْتَلَمَ وَلَا مَنِ احْتَجَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا ، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا ، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2376
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, رجل من أصحاب زيد بن أسلم لم أعرفه, وللحديث شواھد ضعيفة عند الدارقطني (183/1) والبزار (1016،1017) وغيرھما, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15701) (ضعیف) » (اس کے ایک راوی رجل مبہم ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمضان میں روزہ دار کو دن میں احتلام ہو جائے تو کیا کرے؟`
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2376]
فوائد ومسائل:
یہ روایت معنی صحیح ہے، یعنی صحیح روایات سے اس میں بیان کردہ باتیں ثابت ہیں۔
تاہم قصدا قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر بغیر قصد کے قے آ جائے تو روزہ ٹوٹتا، اسی طرح جاگتے ہوئے منی کا انزال ہو جائے خواہ مشت زنی سے ہو یا بیوی سے جماع کرنے سے یا اس سے لپٹنے یا بوسلہ لینے کی وجہ سے تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2376 سے ماخوذ ہے۔