سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب فِي الصَّائِمِ يَحْتَلِمُ نَهَارًا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ باب: رمضان میں روزہ دار کو دن میں احتلام ہو جائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2376
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُفْطِرُ مَنْ قَاءَ وَلَا مَنِ احْتَلَمَ وَلَا مَنِ احْتَجَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا ، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا ، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمضان میں روزہ دار کو دن میں احتلام ہو جائے تو کیا کرے؟`
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2376]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے قے کی اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا، اور نہ اس شخص کا جس کو احتلام ہو گیا، اور نہ اس شخص کا جس نے پچھنا لگایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2376]
فوائد ومسائل:
یہ روایت معنی صحیح ہے، یعنی صحیح روایات سے اس میں بیان کردہ باتیں ثابت ہیں۔
تاہم قصدا قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر بغیر قصد کے قے آ جائے تو روزہ ٹوٹتا، اسی طرح جاگتے ہوئے منی کا انزال ہو جائے خواہ مشت زنی سے ہو یا بیوی سے جماع کرنے سے یا اس سے لپٹنے یا بوسلہ لینے کی وجہ سے تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔
یہ روایت معنی صحیح ہے، یعنی صحیح روایات سے اس میں بیان کردہ باتیں ثابت ہیں۔
تاہم قصدا قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اگر بغیر قصد کے قے آ جائے تو روزہ ٹوٹتا، اسی طرح جاگتے ہوئے منی کا انزال ہو جائے خواہ مشت زنی سے ہو یا بیوی سے جماع کرنے سے یا اس سے لپٹنے یا بوسلہ لینے کی وجہ سے تو بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2376 سے ماخوذ ہے۔