حدیث نمبر: 2375
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : " مَا كُنَّا نَدَعُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ إِلَّا كَرَاهِيَةَ الْجَهْدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ثابت کہتے ہیں کہ` انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی ( پچھنا ) نہیں لگانے دیتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, رواه البخاري (1940) من حديث ثابت به بغير ھذا اللفظ
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 426)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 32 (1940) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´روزے کی حالت میں سینگی (پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان۔`
ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی (پچھنا) نہیں لگانے دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2375]
فوائد ومسائل:
یعنی سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، صرف اندیشہ ہوتا ہے کہ ضعف کی بنا پر اسے پریشانی ہو گی۔
لہذا کمزوری کا اندیشہ نہ ہو تو جائز ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2375 سے ماخوذ ہے۔