سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: روزے کی حالت میں سینگی (پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2375
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ : " مَا كُنَّا نَدَعُ الْحِجَامَةَ لِلصَّائِمِ إِلَّا كَرَاهِيَةَ الْجَهْدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثابت کہتے ہیں کہ` انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی ( پچھنا ) نہیں لگانے دیتے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´روزے کی حالت میں سینگی (پچھنا) لگوانے کی اجازت کا بیان۔`
ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی (پچھنا) نہیں لگانے دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2375]
ثابت کہتے ہیں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم روزے دار کو صرف مشقت کے پیش نظر سینگی (پچھنا) نہیں لگانے دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2375]
فوائد ومسائل:
یعنی سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، صرف اندیشہ ہوتا ہے کہ ضعف کی بنا پر اسے پریشانی ہو گی۔
لہذا کمزوری کا اندیشہ نہ ہو تو جائز ہے۔
یعنی سینگی لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، صرف اندیشہ ہوتا ہے کہ ضعف کی بنا پر اسے پریشانی ہو گی۔
لہذا کمزوری کا اندیشہ نہ ہو تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2375 سے ماخوذ ہے۔