حدیث نمبر: 2367
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ يَعْنِي الرَّحَبِيَّ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " . قَالَ شَيْبَانُ : أَخْبَرَنِي أَبُو قِلَابَةَ، أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ الرَّحَبِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2367
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه ابن ماجه (1680 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (1962، 1963 وسندھما صحيح)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الصیام 18 (1680)، (تحفة الأشراف: 2104)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (3135)، مسند احمد (5/276، 277،280، 282، 283)، سنن الدارمی/الصوم 36 (1774) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´روزہ دار سینگی (پچھنا) لگوائے تو کیسا ہے؟`
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2367]
فوائد ومسائل:
(1) اس باب کی احادیث کو اگلے باب کی احادیث کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو مسئلہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس باب کی احادیث یا تو منسوخ ہیں یا کراہت پر محمول ہیں۔

(2) شیبان کی سند میں اخبار و تحدیث کی صراحت ہے جبکہ ہشام کی سند میں عنعنہ ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2367 سے ماخوذ ہے۔