حدیث نمبر: 2364
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ وَهُوَ صَائِمٌ " ، زَادَ مُسَدَّدٌ : مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ، جسے میں نہ گن سکتا ہوں ، نہ شمار کر سکتا ہوں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2364
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (725), عاصم بن عبيد اللّٰه : ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 88
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصوم 28 (725)، (تحفة الأشراف: 5034)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/445، 446) (ضعیف) » (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 725

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان۔`
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روزے کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا، جسے میں نہ گن سکتا ہوں، نہ شمار کر سکتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2364]
فوائد ومسائل:
(1) روزہ رکھ کر مسواک کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
مسواک خواہ تازہ ہو یا خشک، ہر طرح سے جائز ہے۔
اور ظاہر ہے کہ تازہ مسواک کی رطوبت کو تھوکنا لازمی ہو گا جب کہ اس کے ذائقے کا منہ میں باقی رہ جانا معاف ہے۔
جہاں تک ٹوتھ پیسٹ کا استعمال کا سوال ہے، تع بعض علماء اسے روزے کی حالت میں مکروہ قرار دیتے ہیں۔
لیکن ایسا سمجھنا صحیح نہیں ہے، اس کا حکم بھی مسواک سے مختلف نہیں ہے۔
اگر برش کے استعمال کے دوران میں، مسواک کرتے ہوئے یا وضو کرتے ہوئے دانتوں سے معمولی مقدار میں خون نکل آئے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے (باب سوال الرطب واليابس للصائم) کا عنوان قائم کر کے مندرجہ بالا روایت کو تعلیقا بیان فرمایا ہے۔

(2) دوسری حدیث جس میں ہے کہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بھی طیب ہوتی ہے۔
(صحيح البخاري‘ الصوم‘ حديث:1894‘ و صحيح مسلم‘ الصيام‘ حديث:1151) تو اس کا مفہوم منہ کو گندہ رکھنا نہیں بلکہ اس میں روزے دار کا اللہ کے ہاں محبوب ہونا بیان ہوا ہے اور یہ کہ اس کے معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے اس کے منہ میں جو نامناسب سی بو پیدا ہو جاتی ہے، وہ بھی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے۔
اور ہر حال اور کیفیت میں منہ کو صاف ستھرا رکھنا مطلوب ہے اور روزہ دار ہر حال میں اللہ کا محبوب ہے۔

(3) اس حدیث کی اسنادی بحث کے لیے دیکھئے: (إرواء الغلیل، حدیث: 68)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2364 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ زبیر علی زئی
روزے کی حالت میں مسواک
روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ دیکھئے: [مصنف ابن ابي شيبه 3/35 ح 9149 وسنده صحيح]

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روزے کی حالت میں مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، چاہئے مسواک خشک ہو یا ترہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه 3/ 37 ح 9173 وسنده صحيح]

نیز دیکھئے: [صحيح بخاري قبل ح 1934]

اصل مضمون کے لئے دیکھیں: مقالات جلد 3 صفحہ 602
اور دیکھئے ماہنامہ الحدیث شمارہ نمبر 64 صفحہ 23
درج بالا اقتباس تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 602 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 725 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´روزہ دار کے مسواک کرنے کا بیان۔`
عامر بن ربیعہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو روزہ کی حالت میں اتنی بار مسواک کرتے دیکھا کہ میں اسے شمار نہیں کر سکتا۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 725]
اردو حاشہ:
1؎:
خواہ زوال سے پہلے ہو یا زوال کے بعد، خواہ تازی لکڑی سے ہو، یا خشک، یہی اکثراہل علم کا قول ہے اور یہی راجح۔

نوٹ:
(سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 725 سے ماخوذ ہے۔