حدیث نمبر: 2358
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ` انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت‏‏» ” اے اللہ ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2358
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, معاذ بن زھرة من التابعين, وجاء في تقريب التهذيب (6731) : ’’ مجهول ‘‘ ووثقه ابن حبان وحده, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1944) (ضعيف) » (اس کے راوی معاذ ایک تو لین الحدیث ہیں، دوسرے ارسال کئے ہوئے ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´افطار کے وقت کیا دعا پڑھے؟`
معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت‏‏» اے اللہ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2358]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث ضعیف ہے۔
اس لیے افطار کے وقت پہلی دعا (ذهب الظمأ...) پڑھی جائے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2358 سے ماخوذ ہے۔