سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب الْقَوْلِ عِنْدَ الإِفْطَارِ باب: افطار کے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 2358
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ` انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت» ” اے اللہ ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´افطار کے وقت کیا دعا پڑھے؟`
معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت» ” اے اللہ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2358]
معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت» ” اے اللہ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2358]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث ضعیف ہے۔
اس لیے افطار کے وقت پہلی دعا (ذهب الظمأ...) پڑھی جائے۔
یہ حدیث ضعیف ہے۔
اس لیے افطار کے وقت پہلی دعا (ذهب الظمأ...) پڑھی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2358 سے ماخوذ ہے۔