حدیث نمبر: 2350
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ ، فَلَا يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور ( کھانے پینے کا ) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2350
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1988)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15020)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/423، 510) (حسن صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی اذان فجر اس حال میں سنے کہ برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو کیا کرے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور (کھانے پینے کا) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2350]
فوائد ومسائل:
سحری کا وقت تنگ ہو رہا ہو اور اذان فجر اپنے وقت صبح پر شروع ہو جائے تو اجازت ہے کہ انسان پانی پی لے اور دو چار لقمے لے لے، مگر چائے کی طرح کے مشروب کی چسکیاں لینا درست نہیں ہو گا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2350 سے ماخوذ ہے۔