سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب وَقْتِ السُّحُورِ باب: سحری کھانے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ ، فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الْأَحْمَرُ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْيَمَامَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھاؤ پیو ، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سحری کھانے کے وقت کا بیان۔`
طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2348]
طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2348]
فوائد ومسائل:
صحیح بات یہ ہے کہ اطراف میں سفیدی پھیلنے لگے۔
تاہم بعض دفعہ موسم ابر آلود ہو، پھر سرخی سی بھی پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن عام حالات میں سفیدی ہی پھیلتی ہے، نہ کہ سرخی۔
صحیح بات یہ ہے کہ اطراف میں سفیدی پھیلنے لگے۔
تاہم بعض دفعہ موسم ابر آلود ہو، پھر سرخی سی بھی پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن عام حالات میں سفیدی ہی پھیلتی ہے، نہ کہ سرخی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2348 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 705 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´صبح صادق کے واضح ہو جانے کا بیان۔`
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ طلق بن علی رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھاؤ پیو، تمہیں کھانے پینے سے چمکتی اور چڑھتی ہوئی صبح یعنی صبح کاذب نہ روکے ۱؎ کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ سرخی تمہارے چوڑان میں ہو جائے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 705]
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ طلق بن علی رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھاؤ پیو، تمہیں کھانے پینے سے چمکتی اور چڑھتی ہوئی صبح یعنی صبح کاذب نہ روکے ۱؎ کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ سرخی تمہارے چوڑان میں ہو جائے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 705]
اردو حاشہ:
1؎: ((السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ)) سے مراد فجر کاذب ہے اور ((الْأَحْمَرُ)) سے مراد صبح صادق، اس حدیث سے بعض لوگوں نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ فجر کے ظاہر ہونے تک کھانا پینا جائز ہے، مگر جمہور کہتے ہیں کہ فجر کے متحقق ہوتے ہی کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ((الْأَحْمَرُ)) کہنا مجاورت کی بنا پر ہے کیونکہ فجر کے طلوع کے ساتھ حمرہ (سرخی) آجاتی ہے پس فجرتحقق کو ((الْأَحْمَرُ)) کہہ دیا گیا ہے۔
1؎: ((السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ)) سے مراد فجر کاذب ہے اور ((الْأَحْمَرُ)) سے مراد صبح صادق، اس حدیث سے بعض لوگوں نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ فجر کے ظاہر ہونے تک کھانا پینا جائز ہے، مگر جمہور کہتے ہیں کہ فجر کے متحقق ہوتے ہی کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ((الْأَحْمَرُ)) کہنا مجاورت کی بنا پر ہے کیونکہ فجر کے طلوع کے ساتھ حمرہ (سرخی) آجاتی ہے پس فجرتحقق کو ((الْأَحْمَرُ)) کہہ دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 705 سے ماخوذ ہے۔