سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب وَقْتِ السُّحُورِ باب: سحری کھانے کے وقت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ التَّيْمِيِّ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ ، أَوْ قَالَ : يُنَادِي ، لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا " . قَالَ مُسَدَّدٌ : وَجَمَعَ يَحْيَى كَفَّيْهِ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا ، وَمَدَّ يَحْيَى بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ .
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے ، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے ( تہجد پڑھنے ) والا تہجد پڑھنا بند کر دے ، اور سونے والا جاگ جائے ، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے “ ۔ مسدد کہتے ہیں : راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے ، یہاں تک اس طرح ہو جائے ( یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز فجر کی اذان طلوع فجر سے پہلے جائز ہے، حالانکہ حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قبل از فجر اذان نماز فجر کے لیے ہوتی تھی، بلکہ اس اذان کے مقاصد ہی الگ ہیں، یعنی نماز تہجد سے فارغ ہوکر اذان فجر سے پہلے پہلے سحری کھانا اور نماز کےلیے بیدار ہوکر ضروریات سے فارغ ہونا تاکہ نماز فجر کی تیاری کی جاسکے، جبکہ اذان فجر کا مقصد انتہائے سحری کا اعلان اور نماز فجر کےلیے وقت کی اطلاع دینا ہے، اس لیے مناسب تھا کہ یہ عنوان بایں الفاظ ہوتا: ’’فجر سے قبل سحری کی اذان دینا۔
‘‘ (2)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر دوطرح کی ہوتی ہے: ایک فجر کا ذب اور دوسری فجر صادق، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے خود اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ فجر کی دواقسام ہیں: ایک وہ جس میں کھانا حرام اور نماز پڑھنا جائز ہوتا ہے اور دوسری وہ جس میں نماز پڑھنا حرام اور کھانا تناول کرنا حلال ہوتاہے۔
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ ایک وہ صبح ہے جو بھیڑیے کی دم کی طرح بالکل سیدھی آسمان میں اوپر چڑھتی معلوم ہوتی ہے۔
اس میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہوتا، البتہ کھانا تناول کرنے کو حرام نہیں کرتی۔
اور دوسری وہ جو آسمان کے کناروں میں دائیں بائیں پھیل جاتی ہے، یہ روزے دار کے لیےکھانے کو حرام کردیتی ہے اور اس میں نماز فجر ادا کرنا جائز اور حلال ہوتا ہے۔
(المستدرك للحاکم: 1919/1، حدیث: 687، 688)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلی اذان صبح کاذب کے وقت ہوتی ہے، جب رات کی تاریکی میں مشرق کی طرف سے ایک روشنی نمودار ہوتی ہے جو بھیڑیے کی دم کی طرح نیچے سے اوپر کی طرف پھیلتی ہے۔ یہ رات ہی کا حصہ ہوتی ہے، پھر کچھ دیر کے بعد صبح صادق یعنی اصل صبح نمودار ہوتی ہے، جس کی روشنی دائیں سے بائیں طرف پھیلتی ہے، اس کے ساتھ صبح کی اذان اور نماز کا وقت ہو جاتا ہے اور روزہ دار کا کھانا پینا بند ہو جاتا ہے۔ امام صاحب کے اس باب کا مقصد یہ ہے کہ فجر سے پہلے بھی اذان ہوتی ہے مگر وہ صبح کی نماز کی اذان نہیں بلکہ سونے والے کو جگانے اور قیام والے کو آگاہ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
«عِندَ دُخُولٍ وَقُتِ الصَّلَاةِ»
جب نماز کا وقت ہو جائے۔ ۱؎
۱؎۔ کیونکہ اذان کا مقصد ہی اوقات نماز سے باخبر کرنا ہے۔ البتہ نماز فجر کے وقت سے پہلے اذان دی جا سکتی ہے لیکن یہ یاد رہے کہ یہ اذان نماز فجر کے لیے نہیں ہوگی بلکہ تہجد و نوافل کے لیے اور لوگوں کو بیدار و متنبہ کرنے کے لیے ہوگی۔
اس کے دلائل حسب ذیل ہیں: ➊ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کسی کو ہرگز بلال رضی اللہ عنہ کی اذان اس کی سحری سے مت رو کے کیونکہ وہ رات کو اذان دیتا ہے تاکہ تمہارے تہجد گزار کو لوٹا دے اور تمہارے سونے والے کو جگا دے۔“ [بخاري 621، كتاب الاذان: باب الاذان قبل الفجر، مسلم 1093، ابن ماجة 1696، نسائي 148/4، أحمد 435/1، بيهقي 381/1، أبو عوانة 373/1، ابن خزيمة 1928]
➋ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ان بلالا يؤذن بليل فكلوا واشربوا حتى يؤذن ابن أم مكتوم» ”حضرت بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں اس لیے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے اذان دینے تک کھاؤ اور پیو۔“ [بخاري 617، كتاب الاذان: باب اذان الأعمى إذا كان له من يخبره، مسلم 1092، مؤطا 74/1، حميدي 611، دارمي 269/1، ترمذي 203، نسائي 10/2، أحمد 123/2، ابن خزيمة 401، شرح معاني الآثار 82/1]
➌ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں یہ لفظ ہیں «لا يغرنكم من سحوركم أذان بلال» ”تمہاری سحریوں سے تمہیں بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کہیں دھوکے میں نہ ڈال دے۔“
[مسلم 1094، كتاب الصيام: باب بيان أن الدخول فى الصوم يحصل بطلوع الفجر، أبو داود 2346، ترمذى 701، نسائي 148/4، أحمد 18/5، دارقطني 167/2، بيهقي 215/4]
(جمہور) نماز فجر کا وقت آنے سے پہلے اذان کہنا جائز ہے۔
(ابوحنیفہؒ) یہ اذان جائز نہیں ہے۔
[الأم للشافعي 170/1، شرح المهذب 98/3، بدائع الصنائع 154/1، المبسوط 134/1، الحجة على أهل المدينة 71/1، الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف 420/1]
ناجائز کہنے والوں کی دلیل وہ حدیث ہے کہ جس میں مذکور ہے ”ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے طلوع فجر سے پہلے اذان دے دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ واپس جائیں اور اعلان کریں کہ «ألا إن العبد نام، ألا إن العبد نام» ”خبردار بندہ سو گیا تھا، خبردار بندہ سو گیا تھا۔“
[صحيح: صحيح أبو داود 498، كتاب الصلاة: باب فى الأذان قبل دخول الوقت، أبو داود 532، دارقطني 244/1، بيهقي 383/1]
(البانیؒ) نماز فجر سے پہلے اذان تہجد دینا ایسی سنت ہے کہ جسے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یقیناً ایسے شخص کے لیے مبارک ہے جو اسے توفیق الٰہی زندہ کرے۔ [تمام المنة ص/ 148]
(راجح) جب کسی فرض نماز کے لیے اذان دی جائے گی تو صرف اس کے وقت میں ہی دی جائے گی البتہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا فجر سے پہلے اذان دینا نماز کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کی علت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے واضح ہے کہ «اليسر جمع قائمكم ليوقظ نائمكم» اور جس حدیث میں ہے «الا ان العبد نام» اگر وہ صیح ثابت ہو جائے تو اس کی تاویل اس طرح کی جائے گی کہ یہ واقعہ پہلی اذان مشروع ہونے سے پہلے کا ہے کیونکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ ہی پہلے موذن تھے جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے انہیں کلمات بتلائے تھے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو بھی مؤذن مقرر کر لیا تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ، پہلی اذان دیتے پھر طلوع فجر کے وقت حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیتے۔
[السيل الجرار 434/1، سبل السلام 260/1]
یادر ہے کہ فجر کے وقت سے پہلے دی ہوئی اذان نماز فجر کے لیے کافی نہیں ہوتی بلکہ بعد میں دوسری اذان دینی پڑے گی جیسا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دیتے تھے۔ البتہ امام مالکؒ، امام احمدؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک پہلی اذان ہی نماز فجر کے لیے کفایت کر جاتی ہے جبکہ امام ابن خزیمہؒ، امام ابن منذرؒ، امام غزائیؒ اور اہل حدیث کی ایک جماعت اس کے ناکافی ہونے کی قائل ہے کیونکہ اس کے کافی ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور یہی بات راجح ہے۔
[تحفة الأحوذى 631/1، فتح البارى 312/2، نيل الأوطار 515/1]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بلال رات رہتی ہے تبھی اذان دے دیتے ہیں تاکہ سونے والوں کو جگا دیں، اور تہجد پڑھنے والوں کو (سحری کھانے کے لیے) گھر لوٹا دیں، اور وہ اس طرح نہیں کرتے یعنی صبح ہونے پر اذان نہیں دیتے ہیں بلکہ پہلے ہی دیتے ہیں “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 642]
➋ پہلی اذان کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ جو تہجد وغیرہ پڑھ رہے ہیں، وہ نماز کو مختصر کر دیں اور وتر وغیرہ پڑھ لیں کیونکہ فجر کا وقت ہونے والا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بلال رات ہی میں اذان دیتے ہیں، تاکہ وہ تم میں سونے والوں کو ہوشیار کر دیں، (تہجد پڑھنے یا سحری کھانے کے لیے) اور تہجد پڑھنے والوں کو (گھر) لوٹا دیں، اور فجر اس طرح ظاہر نہیں ہوتی “، انہوں اپنی ہتھیلی سے اشارہ کیا، ” بلکہ فجر اس طرح ظاہر ہوتی ہے “ انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2172]
(2) ”جاگے ہوؤں کو لوٹائیں۔“ یعنی وہ نماز تہجد کو مختصر کر کے کچھ آرام کر لیں تاکہ فجر کی نماز میں سستی لاحق نہ ہو۔
(3) ”فجر ایسے نہیں ہوتی۔“ یعنی جب صرف چند شعاعیں نیچے سے اوپر کو اٹھتی ہوئی محسوس ہوں تو وہ فجر نہیں ہے۔ اسے فجر کاذب کہا جاتا ہے۔
(4) ”فجر ایسے ہوتی ہے۔“ یعنی جب شعاعیں زیادہ ہو جائیں اور افق پر پھیل جائیں اور افق واضح طور پر روشن نظر آنے لگے۔ اسے صبح صادق کہتے ہیں۔ اس وقت حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان کہتے تھے اور اسی اذان سے نماز فجر اور روزے کا آغاز ہوتا تھا۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے، وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ تم میں سونے والا (سحری کھانے کے لیے) جاگ جائے، اور قیام (یعنی تہجد پڑھنے) والا اپنے گھر چلا جائے، اور فجر اس طرح سے نہیں ہے، بلکہ اس طرح سے ہے کہ وہ آسمان کے کنارے عرض (چوڑان) میں ظاہر ہوتی ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1696]
فوائد و مسائل: (1)
فجر کے وقت دو اذانیں مسنون ہیں ایک اذا ن صبح صا دق سے پہلے دی جا ئے جیسے عرف عام میں سحری کی اذ ان کہا جا تا ہے اور دوسری اذان صبح صادق ہونے پر نما ز فجر کے لئے دی جا ئے
(2)
بہتر ہے کہ دونو ں اذانو ں کے لئے دو الگ الگ مئوذن مقرر کیے جا ئیں تا کہ لو گو ں کو آواز سن کر معلو م ہو جا ئے کہ اب کون سی اذان ہو رہی ہے مسجد نبوی میں دوسری اذان یعنی نما ز فجر کی اذان کے لئے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقرر تھے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، الأذان، باب أذان الأعمیٰ إذا کان له من یخبرہ، حدیث: 617)
(3)
پہلی اذان کے یہ فوائد ذکر کیے گے ہیں کہ جو شخص سو رہا ہے وہ جا گ اٹھے اگر سحری کھانی ہو تو سحری کھا لے ورنہ نماز فجر کی تیاری کرے اور جو شخص تہجد پڑھ رہا ہے وہ اس سے فا رغ ہو کر مذکورہ کامو ں کے لئے تیا ری کرے اور دیگر لو گ قضا ئے حا جت وغیرہ فارغ ہو کر وضو کر کے بر وقت مسجد میں پہنچ جائیں تا کہ نماز با جماعت میں شریک ہو سکیں۔
(4)
عہد رسا لت میں دو اذانوں کا یہ سلسلہ مستقل معمول تھا صرف رمضان ہی کے مہینے میں ایسا نہیں ہو تا جیسا کے عا م طو ر پر سمجھا جا تا ہے اس لئے صرف رمضا ن میں اس کا اہتمام کر نا صحیح نہیں ہے
(5)
نبی ﷺ نے صبح کاذب اور صبح صادق کا فرق اشارے سے واضح فر مایا پہلے اس طرح کا مطلب یہ ہے کہ روشنی کا رخ اوپر کی طرف زیا دہ ہو اسے صبح کاذب کہتے ہیں دوسرے اس طرح کا مطلب یہ ہے کہ روشنی اطراف میں پھیلے یہ صبح صادق ہو تی ہے۔
(6)
با ت سمجھانے کے لئے اشارہ کرنا درست ہے تاہم خطبے میں دونوں ہا تھ ہلانا اور نعرے وغیرہ لگوانا مناسب نہیں۔