سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَنْ سَمَّى السَّحُورَ الْغَدَاءَ باب: سحری کے کھانے کو «غداء» (دوپہر کا کھانا) کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2345
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ أَبُو الْمُطَرِّفِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نِعْمَ سَحُورُ الْمُؤْمِنِ التَّمْرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھجور مومن کی کتنی اچھی سحری ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سحری کے کھانے کو «غداء» (دوپہر کا کھانا) کہنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھجور مومن کی کتنی اچھی سحری ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2345]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کھجور مومن کی کتنی اچھی سحری ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2345]
فوائد ومسائل:
کجھور سر تا پا ایک مبارک درخت ہے۔
اور اس کا پھل سحری اور افطاری میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
کجھور سر تا پا ایک مبارک درخت ہے۔
اور اس کا پھل سحری اور افطاری میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2345 سے ماخوذ ہے۔