سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَنْ سَمَّى السَّحُورَ الْغَدَاءَ باب: سحری کے کھانے کو «غداء» (دوپہر کا کھانا) کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2344
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سَيْفٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ ، قَالَ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّحُورِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ الْمُبَارَكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا : ” بابرکت «غداء» پر آؤ “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سحری کے کھانے کو «غداء» (دوپہر کا کھانا) کہنے کا بیان۔`
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: ” بابرکت «غداء» پر آؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2344]
عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں سحری کھانے کے لیے بلایا اور یوں کہا: ” بابرکت «غداء» پر آؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2344]
فوائد ومسائل:
کھانا انسانی فطرت کا ایک لازمہ ہے، مگر شریعت کی اتباع میں سحری کا کھانا مبارک کھانا ہوتا ہے۔
چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناطق وحی ہیں، اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے، اس لیے اگر کسی کی طبیعت میں سحری کے لیے چاہت نہ بھی ہو تو ایک دو لقمے یا کجھور یا کسی مشروب کے چند گھونٹ ضرور لے لینے چاہئیں تاکہ اس برکت سے حصہ مل جائے۔
کھانا انسانی فطرت کا ایک لازمہ ہے، مگر شریعت کی اتباع میں سحری کا کھانا مبارک کھانا ہوتا ہے۔
چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناطق وحی ہیں، اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے، اس لیے اگر کسی کی طبیعت میں سحری کے لیے چاہت نہ بھی ہو تو ایک دو لقمے یا کجھور یا کسی مشروب کے چند گھونٹ ضرور لے لینے چاہئیں تاکہ اس برکت سے حصہ مل جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2344 سے ماخوذ ہے۔