حدیث نمبر: 2331
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، قَالَ : كَانَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ : سِرُّهُ أَوَّلُهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَالَ بَعْضُهُمْ : سِرُّهُ وَسَطُهُ . وَقَالُوا : آخِرُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابومسہر کہتے ہیں` سعید یعنی ابن عبدالعزیز کہتے ہیں «سره» کے معنی «أوله» کے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «سره» کے معنی کچھ لوگ «وسطه» کے بتاتے ہیں اور کچھ لوگ «آخره» کے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 18966، 18693) (شاذ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رمضان کے استقبال کا بیان۔`
ابومسہر کہتے ہیں سعید یعنی ابن عبدالعزیز کہتے ہیں «سره» کے معنی «أوله» کے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «سره» کے معنی کچھ لوگ «وسطه» کے بتاتے ہیں اور کچھ لوگ «آخره» کے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2331]
فوائد ومسائل:
امام اوزاعی اور ابن عبدالعزیزی کے اقوال شاذ ہیں۔
(ضعیف سنن ابی داود) گویا سَرَر یا سر کے معنی وسط یا آخری ہی صحیح ہیں اور آخر سب سے زیادہ صحیح ہے۔
کیونکہ اس کے معنی پوشیدگی کے ہیں۔
اور چاند مہینے کے آخر میں ایک یا دو دن غائب (پوشیدہ) رہتا ہے۔
اس اعتبار سے اس کے معنی آخر راجح ہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2331 سے ماخوذ ہے۔