سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب إِذَا أُغْمِيَ الشَّهْرُ باب: جب (بادل کی وجہ سے) مہینہ مشتبہ ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 2325
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے ، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے ، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہو جاتا تو تیس دن پورے کرتے ، پھر روزے رکھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جب (بادل کی وجہ سے) مہینہ مشتبہ ہو جائے تو کیا کیا جائے؟`
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہو جاتا تو تیس دن پورے کرتے، پھر روزے رکھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2325]
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان کی تاریخوں کا جتنا خیال رکھتے کسی اور مہینے کی تاریخوں کا اتنا خیال نہ فرماتے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزے رکھتے، اگر وہ آپ پر مشتبہ ہو جاتا تو تیس دن پورے کرتے، پھر روزے رکھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2325]
فوائد ومسائل:
غیر یقینی صورت حال میں روزہ رکھنا روا نہیں ہے۔
یہ شک کا دن شمار ہو گا، نیز استقبال کی نیت سے روزہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ ممنوع ہے۔
غیر یقینی صورت حال میں روزہ رکھنا روا نہیں ہے۔
یہ شک کا دن شمار ہو گا، نیز استقبال کی نیت سے روزہ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یہ ممنوع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2325 سے ماخوذ ہے۔