سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب الشَّهْرِ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ باب: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " لَمَا صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا مَعَهُ ثَلَاثِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
فوائد ومسائل:
(1) انتیس روزے مجموعی لحاظ سے اجر میں تیس ہی کی طرح ہوتے ہیں، کیونکہ اس عمل کی بنیاد اخلاص اور اطاعت پر ہے۔
(2) (لما صمنا) میں ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔
(عون المعبود)
(1) انتیس روزے مجموعی لحاظ سے اجر میں تیس ہی کی طرح ہوتے ہیں، کیونکہ اس عمل کی بنیاد اخلاص اور اطاعت پر ہے۔
(2) (لما صمنا) میں ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔
(عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2322 سے ماخوذ ہے۔