حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " لَمَا صُمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرَ مِمَّا صُمْنَا مَعَهُ ثَلَاثِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2322
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (689 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الصوم 6 (689)، (تحفة الأشراف: 9478)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/441، 397، 405، 408، 441، 450) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 689 | معجم صغير للطبراني: 369

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
فوائد ومسائل:
(1) انتیس روزے مجموعی لحاظ سے اجر میں تیس ہی کی طرح ہوتے ہیں، کیونکہ اس عمل کی بنیاد اخلاص اور اطاعت پر ہے۔

(2) (لما صمنا) میں ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔
(عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2322 سے ماخوذ ہے۔