حدیث نمبر: 2321
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ ، قَالَ : كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ بَلَغَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، زَادَ : " وَإِنَّ أَحْسَنَ مَا يُقْدَرُ لَهُ أَنَّا إِذَا رَأَيْنَا هِلَالَ شَعْبَانَ لِكَذَا وَكَذَا ، فَالصَّوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لِكَذَا وَكَذَا ، إِلَّا أَنْ تَرَوْا الْهِلَالَ قَبْلَ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ایوب کہتے ہیں : عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : ” اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ ان شاءاللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا ، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں ( تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيام / حدیث: 2321
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحديث مرسل ولم يخبر الإمام عمر بن عبد العزيز ممن بلغه به, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7536 و 19146) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔`
ایوب کہتے ہیں: عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا ہے۔۔۔، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے: اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ ان شاءاللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں (تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں)۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2321]
فوائد ومسائل:
اصل اعتبار اور اہمیت چاند دیکھنے کی ہے، محض حساب کی نہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2321 سے ماخوذ ہے۔