سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب نَسْخِ قَوْلِهِ { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ } باب: آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية» کے منسوخ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2315
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 ، كَانَ مَنْ أَرَادَ مِنَّا أَنْ يُفْطِرَ وَيَفْتَدِيَ فَعَلَ ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي بَعْدَهَا فَنَسَخَتْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ` جب یہ آیت «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ” اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں “ ( سورۃ البقرہ : ۱۸۳ ) نازل ہوئی تو جو شخص ہم میں سے روزے نہیں رکھنا چاہتا وہ فدیہ ادا کر دیتا پھر اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية» کے منسوخ ہونے کا بیان۔`
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ” اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں “ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳) نازل ہوئی تو جو شخص ہم میں سے روزے نہیں رکھنا چاہتا وہ فدیہ ادا کر دیتا پھر اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2315]
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ” اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں وہ ایک مسکین کا کھانا فدیہ دے دیں “ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳) نازل ہوئی تو جو شخص ہم میں سے روزے نہیں رکھنا چاہتا وہ فدیہ ادا کر دیتا پھر اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2315]
فوائد ومسائل:
بعد والی آیت سے مراد ہے: (فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ) (البقرة:185) یعنی جو اس مہینے میں حاضر ہو، وہ اس کے روزے رکھے۔
بعد والی آیت سے مراد ہے: (فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ) (البقرة:185) یعنی جو اس مہینے میں حاضر ہو، وہ اس کے روزے رکھے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2315 سے ماخوذ ہے۔