سنن ابي داود
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَبْدَإِ فَرْضِ الصِّيَامِ باب: روزہ فرض ہونے کی ابتداء۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّوَيْهِ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ سورة البقرة آية 183 ، فَكَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّوْا الْعَتَمَةَ حَرُمَ عَلَيْهِمُ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَاءُ ، وَصَامُوا إِلَى الْقَابِلَةِ ، فَاخْتَانَ رَجُلٌ نَفْسَهُ فَجَامَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ صَلَّى الْعِشَاءَ وَلَمْ يُفْطِرْ ، فَأَرَادَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَجْعَلَ ذَلِكَ يُسْرًا لِمَنْ بَقِيَ وَرُخْصَةً وَمَنْفَعَةً ، فَقَالَ سُبْحَانَهُ : عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ سورة البقرة آية 187 الْآيَةَ ، وَكَانَ هَذَا مِمَّا نَفَعَ اللَّهُ بِهِ النَّاسَ وَرَخَّصَ لَهُمْ وَيَسَّرَ " .
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` یہ آیت کریمہ «يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم» ” اے ایمان والو ! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے “ ( سورۃ البقرہ : ۱۸۳ ) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا ، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہو جاتا ، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے ، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی ، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا ، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آسانی اور رخصت دینی اور انہیں فائدہ پہنچانا چاہا تو فرمایا : «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم» ” اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے “ ( سورۃ البقرہ : ۱۸۷ ) یہی وہ چیز تھی جس کا فائدہ اللہ نے لوگوں کو دیا اور جس کی انہیں رخصت اور آسانی دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ «يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم» ” اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دئیے گئے تھے “ (سورۃ البقرہ: ۱۸۳) نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عشاء پڑھتے ہی لوگوں پر کھانا، پینا اور عورتوں سے جماع کرنا حرام ہو جاتا، اور وہ آئندہ رات تک روزے سے رہتے، ایک شخص نے اپنے نفس سے خیانت کی، اس نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی حالانکہ وہ عشاء پڑھ چکا تھا، اور اس نے روزہ نہیں توڑا تو اللہ تعالیٰ نے باقی لوگوں کو آس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2313]
اس حدیث کی رو سے پہلے یہ مسئلہ تھا کہ عشاء کی نماز کے بعد کھانا پینا اور بیوی سے مباشرت کرنا ممنوع تھا، لیکن ایک صحابی سے عشاء کی نماز پڑھ لینے کے بعد یہ کوتاہی ہو گئی کہ وہ بیوی کے ساتھ ہم بستری کر بیٹھا تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رخصت عنایت فرما دی۔
(مزید تفصیل اگلی حدیث کے فوائد میں دیکھیں۔
)