حدیث نمبر: 2312
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ أَبِيهِ وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33 ، قَالَ : قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ : " غَفُورٌ لَهُنَّ الْمُكْرَهَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ` آیت کریمہ : «ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم» ( النور : ۳۳ ) ” اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے “ کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا ، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2312
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, قال يحيي بن معين : كان سليمان التيمي يدلس (تاريخ ابن معين : 3600) وتقدم (1488), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 87
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18689) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زنا بہت بڑا گناہ ہے۔`
سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ آیت کریمہ: «ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم» (النور: ۳۳) اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2312]
فوائد ومسائل:
یہ ایک تابعی قول ہے، عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کے پاس کئی لونڈیاں تھیں، ان میں سے ایک کا نام مسیکہ تھا وہ ان سے بدکاری کرا کے آمدنی حاصل کرتا تھا۔
ان لونڈیوں نے اسلام قبول کرلیا تو اس عمل شنیع سے انکار کرنے لگیں، مگر وہ ان پر جبر کرتا تھا توا سی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی زنا ویسے ہی انتہائی قبیح اور بے حیائی کا کام ہے تواس کام کے لئے کسی مجبور کرنا اور بھی برا ہے، البتہ جس پر زبردستی کی گئی ہو اس کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے معافی ہے، مگر جبر کرنے والا اپنے آپ کو کیسے بچا سکے گا؟
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2312 سے ماخوذ ہے۔