سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي تَعْظِيمِ الزِّنَا باب: زنا بہت بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 2311
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " جَاءَتْ مُسَيْكَةُ مِسْكِينَةٌ لِبَعْضِ الأَنْصَارِ ، فَقَالَتْ : إِنَّ سَيِّدِي يُكْرِهُنِي عَلَى الْبِغَاءِ ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ : وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ سورة النور آية 33 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ` ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے ، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء» ( سورۃ النور : ۳۳ ) ” تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو “ ۔