مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2308
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ مَطَرٍ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : " لَا تُلَبِّسُوا عَلَيْنَا سُنَّةً " ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : " سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ " ، يَعْنِي أُمَّ الْوَلَدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ( ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) سنت کو ہم پر گڈمڈ نہ کرو ، ( سنت یہ ہے کہ ) جس کا شوہر فوت ہو جائے اس کی یعنی ام ولد ۱؎ کی عدت چار مہینے دس دن ہے ۔

وضاحت:
۱؎: ام ولد: ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک سے بچہ جنا ہو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2308
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, سعيد بن أبي عروبة صرح بالسماع عند البيھقي (1558) وقبيصة بن ذؤيب صحابي صغير ومراسيل الصحابة مقبولة بالإجماع

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ام ولد کی عدت کا بیان۔`
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) سنت کو ہم پر گڈمڈ نہ کرو، (سنت یہ ہے کہ) جس کا شوہر فوت ہو جائے اس کی یعنی ام ولد ۱؎ کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2308]
فوائد ومسائل:
1: وہ لونڈی جس سے اس کے مالک کی اولاد بھی ہو، ام ولد کہلاتی ہے۔

2: ام ولد کس کا آقا فوت ہو جائے اس کی عدت میں اختلاف ہے۔
بعض کے نزدیک اس کی عدت تین حیض اور بعض کے نزدیک ایک حیض ہے۔
لیکن جن کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے، ان کے نزدیک اس کی عدت بھی چاہ مہینے دس کی ہی ہے۔
(واللہ اعلم)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2308 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔