حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُرُوجِ فَاطِمَةَ ، قَالَ : " إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ سُوءِ الْخُلُقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سلیمان بن یسار سے بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلنے کا قصہ مروی ہے` وہ کہتے ہیں : یہ بد خلقی کی بنا پر ہوا تھا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2294
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل مع عنعنة الثوري, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18023) (ضعیف) » (یہ روایت مرسل ہے ، سلیمان بن یسار تابعی ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر نکیر کرنے والوں کا بیان۔`
سلیمان بن یسار سے بھی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلنے کا قصہ مروی ہے وہ کہتے ہیں: یہ بد خلقی کی بنا پر ہوا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2294]
فوائد ومسائل:
یہ قول ضعیف ہے، اس کی تفصیل گزشتہ باب کے فائدہ میں گزر چکی ہے، مکمل بحث زاد المعاد۔
جلد چہارم میں ملاحظہ فرمالی جائے۔
(بحث. حکمهﷺفي أنه لا نفقة ولاسکنی للمبتوتة)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2294 سے ماخوذ ہے۔