حدیث نمبر: 2282
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ :وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ سورة البقرة آية 228 ، وَقَالَ : وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلاثَةُ أَشْهُرٍ سورة الطلاق آية 4 ، فَنُسِخَ مِنْ ذَلِكَ ، وَقَالَ : وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ سورة البقرة آية 237 فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا سورة الأحزاب آية 49 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» ” اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین طہر تک روکے رکھیں “ ( سورۃ البقرہ : 228 ) اور فرمایا : «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» ” اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے “ ( سورۃ الطلاق : 4 ) تو یہ عورتیں پہلی آیت کے حکم سے نکال لی گئیں ہیں ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» ” اگر تم انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو انہیں کوئی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں “ (سورة البقرة آية 237) اس آیت میں مذکور عورتوں کو بھی پہلی آیت کے حکم سے نکال دیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2282
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه النسائي (3584 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (2195)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (2195)، (تحفة الأشراف: 6253) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مطلقہ کی عدت والی آیت کے حکم سے مستثنٰی عورتوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین طہر تک روکے رکھیں (سورۃ البقرہ: ۲۲۸) اور فرمایا: «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے (سورۃ الطلاق: ۴) تو یہ عورتیں پہلی آیت کے حکم سے نکال لی گئیں ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» اگر تم انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق د۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2282]
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عباس نے اسے نسخ یا استثنا سے تعبیر فرمایا ہے، لیکن دراصل مختف صورتوں کے مختلف احکام ہیں۔
عام مطلقہ عورت کی عدت تین حیض (یا تین طہر)ہیں۔
لیکن جس کو حیض آنا بند ہو گیا ہو یا جیسے حیض آنا شروع ہی نہیں ہوا تو ان کی عدت تین مہینے ہو گی اور جس عورت کو خلوت اور مساس سے پہلے طلاق دے دی جائے تو اسکے لئے کوئی عدت ہی نہیں ہے۔
اسی طرح جو عورت حاملہ ہو اسے طلاق مل جائے یا اس کا خاوند فوت ہو جائے تو اس کی عدت وضع حمل ہے جبکہ بیوہ عورت کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2282 سے ماخوذ ہے۔