سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب مَنْ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ باب: بچے کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟
حدیث نمبر: 2280
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ هَانِئٍ ، وَهُبَيْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجْنَا مِنْ مَكَّةَ تَبِعَتْنَا بِنْتُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمُّ يَا عَمُّ ، فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا ، وَقَالَ : دُونَكِ بِنْتَ عَمِّكِ فَحَمَلَتْهَا ، فَقَصَّ الْخَبَرَ ، قَالَ : وَقَالَ جَعْفَرٌ : ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي ، فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا ، وَقَالَ : " الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب ہم مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے پیچھے حمزہ کی لڑکی چچا چچا پکارتی آ گئی ، علی رضی اللہ عنہ ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے اور ( فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) کہا : اپنے چچا کی لڑکی کو لو ، انہوں نے اسے اٹھا لیا ، راوی نے پھر پورا قصہ بیان کیا اور کہا کہ : جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا : ” خالہ ماں کے درجے میں ہے “ ۔