سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب الْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ باب: بچہ صاحب فراش کا ہو گا (یعنی جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی بچہ اسی کو ملے گا)۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنْ رَبَاحٍ ، قَالَ : " زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللَّهِ ، ثُمَّ طَبِنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي رُومِيٌّ ، يُقَالُ لَهُ : يُوحَنَّهْ ، فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ مِنَ الْوَزَغَاتِ ، فَقُلْتُ لَهَا : مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ : هَذَا لِيُوحَنَّهْ ، فَرَفَعْنَا إِلَى عُثْمَانَ ، أَحْسَبُهُ قَالَ : مَهْدِيٌّ ، قَالَ : فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا ، فَقَالَ لَهُمَا : أَتَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ : فَجَلَدَهَا ، وَجَلَدَهُ وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ " .
´رباح کہتے ہیں کہ` میرے گھر والوں نے اپنی ایک رومی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا ، میں نے اس سے جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح کالا لڑکا جنا جس کا نام میں نے عبداللہ رکھا ، میں نے پھر جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح ایک اور کالے لڑکے کو جنم دیا جس کا نام میں نے عبیداللہ رکھا ، اس کے بعد میرے خاندان کے یوحنا نامی ایک رومی غلام نے اسے پھانس لیا اور اس نے اس سے اپنی زبان میں بات کی چنانچہ گرگٹ جیسا ( سرخ ) رنگ کا بچہ اس سے پیدا ہوا ، میں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ کہنے لگی : یہ یوحنا کا بچہ ہے تو ہم نے یہ معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا ، تو انہوں نے ان سے بازپرس کی تو دونوں نے اعتراف کر لیا ، پھر انہوں نے ان دونوں سے کہا : کیا تم دونوں اس بات پر رضامند ہو کہ میں تمہارا فیصلہ اس طرح کر دوں جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا ؟ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ ” بچہ بستر والے کا ہے “ ۔ راوی کا خیال ہے کہ پھر ان دونوں کو کوڑے لگائے ، ( سنگسار نہیں کیا ) کیونکہ وہ دونوں لونڈی و غلام تھے ۔