سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب الْوَلَدِ لِلْفِرَاشِ باب: بچہ صاحب فراش کا ہو گا (یعنی جس کی بیوی یا لونڈی ہو گی بچہ اسی کو ملے گا)۔
حدیث نمبر: 2274
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانًا ابْنِي عَاهَرْتُ بِأُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! فلاں میرا بیٹا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں اس طرح کا مطالبہ صحیح نہیں ، زمانہ جاہلیت کی بات ختم ہوئی ، بچہ صاحب بستر کا ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے “ ۔