سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب مَنْ قَالَ بِالْقُرْعَةِ إِذَا تَنَازَعُوا فِي الْوَلَدِ باب: ایک لڑکے کے کئی دعویدار ہوں تو قرعہ ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2271
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ ، عَنْ الْخَلِيلِ ، أَوْ ابْنِ الْخَلِيلِ ، قَالَ : " أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ ثَلَاثَةٍ ، نَحْوَهُ ، لَمْ يَذْكُرِ الْيَمَنَ ، وَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا قَوْلَهُ طِيبَا بِالْوَلَدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہ` علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا ، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے ، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ، اور نہ ( علی رضی اللہ عنہ کے ) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے ( تیسرے کو ) دے دو ۔