حدیث نمبر: 2262
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ،أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أُنْكِرُهُ . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : میری عورت نے ایک کالا لڑکا جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2262
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (7314) صحيح مسلم (1500)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الاعتصام 12 (7314)، صحیح مسلم/اللعان 1 (1500)، (تحفة الأشراف: 15311) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جب بچے کے متعلق شک ہو تو کیا حکم ہے؟`
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا لڑکا جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2262]
فوائد ومسائل:
اس روایت میں (أنکرہ) کے معنی (أستنكره) ہیں۔
یعنی میرادل نہیں مانتا۔
اس میں گمان کی بات ہے یقین کی نہیں۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2262 سے ماخوذ ہے۔