حدیث نمبر: 225
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ ، أَنْ يَتَوَضَّأَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : بَيْنَ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، وَعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ رَجُلٌ ، وقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَابْنُ عُمَرَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : الْجُنُبُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ ، تَوَضَّأَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ جب وہ کھانے پینے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن یعمر اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے درمیان اس حدیث میں ایک اور شخص ہے ، علی بن ابی طالب ، ابن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم نے کہا ہے کہ جنبی جب کھانے کا ارادہ کرے تو وضو کرے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (613) ويأتي (4176،4601), يحيي بن يعمر رواه عن رجل عن عمار بن ياسر والرجل مجھول, والحديث السابق (الأصل: 224) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 21
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الجمعة 78 (613)، (تحفة الأشراف: 10371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/320) (ضعیف) » (اس میں دو علتیں ہیں: سند میں انقطاع ہے اور عطاء خراسانی ضعیف ہیں)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 613

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ جنبی اپنا غسل مؤخر کرنا چاہے تو مستحب و مؤکد یہی ہے کہ نماز والا وضو کر لے`
«. . . عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لِلْجُنُبِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ أَوْ نَامَ، أَنْ يَتَوَضَّأَ . . .»
. . . عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو رخصت دی ہے کہ جب وہ کھانے پینے یا سونے کا ارادہ کرے تو وضو کر لے . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 225]
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت سنداً اگرچہ منقطع ہے، مگر معنٰی ثابت ہے جیسے کہ گزشتہ احادیث سے ثابت ہوا ہے کہ جنبی اپنا غسل مؤخر کرناچاہے تو مستحب و مؤکد یہی ہے کہ نماز والا وضو کر لے۔ اور جنبی رہنے اور (کم از کم) ترک وضو کو اپنی عادت نہ بنائے، مگر کھانے پینے کے لیے صرف ہاتھ دھو لینا بھی کافی ہے۔ مزید پیش آمدہ احادیث دیکھئے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 225 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 613 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´جنبی وضو کر لے تو اس کو کھانے اور سونے کی اجازت ہے۔`
عمار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنبی کو جب وہ کھانا، پینا اور سونا چاہے اس بات کی رخصت دی کہ وہ اپنی نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 613]
اردو حاشہ: 1 ؎: یعنی متابعات و شواہد کی بنا پر۔

نوٹ:
(اس میں دو علتیں ہیں: سند میں یحییٰ اور عمار کے درمیان انقطاع ہے اور’’عطاء خراسانی‘‘ ضعیف ہیں لیکن سونے کے لیے وضوء رسول اکرم ﷺ سے ثابت ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 613 سے ماخوذ ہے۔