سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي اللِّعَانِ باب: لعان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2249
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، بِهَذَا الْخَبَرِ ، قَالَ : فَكَانَ يُدْعَى يَعْنِي الْوَلَدَ لِأُمِّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لعان کا بیان۔`
اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2249]
اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2249]
فوائد ومسائل:
ولد الزناء کی نسبت ان کی ماؤں کی طرف ہوتی ہے تاہم ان کی تربیت صحیح اسلامی انداز میں کی جانی چاہیے۔
تاکہ با وقار اسلامی زندگی گزاریں۔
ولد الزناء کی نسبت ان کی ماؤں کی طرف ہوتی ہے تاہم ان کی تربیت صحیح اسلامی انداز میں کی جانی چاہیے۔
تاکہ با وقار اسلامی زندگی گزاریں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2249 سے ماخوذ ہے۔