سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي اللِّعَانِ باب: لعان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2246
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ : " أَمْسِكِ الْمَرْأَةَ عِنْدَكَ حَتَّى تَلِدَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” بچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لعان کا بیان۔`
سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: " بچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2246]
سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: " بچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو۔" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2246]
فوائد ومسائل:
معلوم ہوا کہ وہ عورت حاملہ تھی۔
گویا حاملہ کے ساتھ بھی لعان کیا جا سکتا ہے۔
معلوم ہوا کہ وہ عورت حاملہ تھی۔
گویا حاملہ کے ساتھ بھی لعان کیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2246 سے ماخوذ ہے۔