حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي الْكُوفَةِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ ، بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے` اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2242
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (1952), انظر الحديث السابق (2241), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11089) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قبول اسلام کے وقت آدمی کے پاس چار سے زائد عورتیں یا دو بہنیں عقد نکاح میں ہوں تو اس کے حکم کا بیان۔`
اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2242]
فوائد ومسائل:
یہ سند مزکورہ بالا قول امام ابو داود کی دلیل اور احمد بن ابراہیم کے شیخ ہیشم کی متابع ہے کہ صحابی کا نام قیس بن حارث ہی ہے۔
(دونوں روایات شیخ البانی ؒکے نزدیک صحیح ہیں۔
)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2242 سے ماخوذ ہے۔