سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي مَنْ أَسْلَمَ وَعِنْدَهُ نِسَاءٌ أَكْثَرُ مِنْ أَرْبَعٍ أَوْ أُخْتَانِ باب: قبول اسلام کے وقت آدمی کے پاس چار سے زائد عورتیں یا دو بہنیں عقد نکاح میں ہوں تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2242
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَاضِي الْكُوفَةِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُخْتَارِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُمَيْضَةَ بْنِ الشَّمَرْدَلِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَارِثِ ، بِمَعْنَاهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے` اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قبول اسلام کے وقت آدمی کے پاس چار سے زائد عورتیں یا دو بہنیں عقد نکاح میں ہوں تو اس کے حکم کا بیان۔`
اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2242]
اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2242]
فوائد ومسائل:
یہ سند مزکورہ بالا قول امام ابو داود کی دلیل اور احمد بن ابراہیم کے شیخ ہیشم کی متابع ہے کہ صحابی کا نام قیس بن حارث ہی ہے۔
(دونوں روایات شیخ البانی ؒکے نزدیک صحیح ہیں۔
)
یہ سند مزکورہ بالا قول امام ابو داود کی دلیل اور احمد بن ابراہیم کے شیخ ہیشم کی متابع ہے کہ صحابی کا نام قیس بن حارث ہی ہے۔
(دونوں روایات شیخ البانی ؒکے نزدیک صحیح ہیں۔
)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2242 سے ماخوذ ہے۔