سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2238
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي فَرُدَّهَا عَلَيَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی ، تو اس نے کہا : اللہ کے رسول ! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´میاں بیوی میں سے کوئی ایک مسلمان ہو جائے اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2238]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2238]
فوائد ومسائل:
ایام کفر وشرک کے نکاح بعد از اسلام بھی صحیح سمجھے جاتے ہیں۔
تجدید کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں الا یہ کہ کسی واضح حرمت کا ارتکاب ہواہو۔
مثلاً کسی محرم نسبی یا رضاعی سے نکاح کیا ہوتو فسخ ہوجائے گا ورنہ نہیں۔
جیسے کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔
تاہم باعتبار سند یہ روایت ضعیف ہے۔
(إرواء الغلیل، حدیث:1918)
ایام کفر وشرک کے نکاح بعد از اسلام بھی صحیح سمجھے جاتے ہیں۔
تجدید کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں الا یہ کہ کسی واضح حرمت کا ارتکاب ہواہو۔
مثلاً کسی محرم نسبی یا رضاعی سے نکاح کیا ہوتو فسخ ہوجائے گا ورنہ نہیں۔
جیسے کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔
تاہم باعتبار سند یہ روایت ضعیف ہے۔
(إرواء الغلیل، حدیث:1918)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2238 سے ماخوذ ہے۔