حدیث نمبر: 2235
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ حُرًّا حِينَ أُعْتِقَتْ ، وَأَنَّهَا خُيِّرَتْ " ، فَقَالَتْ : مَا أُحِبُّ أَنْ أَكُونَ مَعَهُ وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` جس وقت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ۱؎ تھا ، اسے اختیار دیا گیا ، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی ۔

وضاحت:
۱؎: صحیح یہ ہے کہ وہ اس وقت غلام تھے جیسا کہ متعدد صحیح روایتیں اوپر گزریں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح خ وأشار إلى أن قوله كان حرا مدرج من قول الأسود , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1155) ابن ماجه (2074), إبراهيم النخعي عنعن وھو مدلس (طبقات المدلسين : 2/35وھو عندنا من الثالثة) ولو ثبت عن الأسود لكان معللاً لمخالفة جمع من الرواة والعدد الكثير أولي بالحفظ (عند التعارض) من الواحد, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 84
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15997) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بریرہ کا شوہر آزاد تھا اس کے قائلین کی دلیل۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ۱؎ تھا، اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2235]
فوائد ومسائل:
شیخ البانیؒ کے نزدیک (کان حرا) وہ آزاد تھا کا جملہ اسود بن یزید کا کلام ہے اور بقول امام بخاری منقطع ہے جبکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس کا شوہر غلام تھا: صحیح تر ہے۔
دیکھیے (صحیح البخاري، الطلاق، حدیث:5282)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2235 سے ماخوذ ہے۔