سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب الْجُنُبِ يَأْكُلُ باب: جنبی کھانا کھائے تو کیا کرے؟
حَدَّثَنَا ، مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، زَادَ : وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ ، غَسَلَ يَدَيْهِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، فَجَعَلَ قِصَّةَ الْأَكْلِ قَوْلَ عَائِشَةَ مَقْصُورًا ، وَرَوَاهُ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، إِلَّا أَنَّهُ ، قَالَ : عَنْ عُرْوَةَ ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَمَا قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ .
´اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ، البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ` جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے ، تو اپنے ہاتھ دھوتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن وہب نے بھی یونس سے روایت کیا ہے ، اور کھانے کے تذکرہ کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے ، نیز اسے صالح بن ابی الاخضر نے بھی زہری سے روایت کیا ہے ، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے ، مگر اس میں «عن عروة أو أبي سلمة» ( شک کے ساتھ ) ہے نیز اسے اوزاعی نے بھی یونس سے ، یونس نے زہری سے ، اور زہری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے ، جیسے ابن مبارک نے کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ وَهُوَ جُنُبٌ، غَسَلَ يَدَيْهِ . . .»
”. . . جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھوتے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 223]
سنن نسائی میں کھانے کے ساتھ پینے کا بھی ذکر ہے۔ [سنن نسائي‘حديث: 258]
اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جنبی آدمی کو کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہئیں۔ تاہم عام حالات میں اگر ہاتھ صاف ہوں، تو کھانے پینے سے پہلے ہاتھ دھونے ضروری نہیں ہیں، تاہم مستحب (پسندیدہ) ضرور ہے۔