سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي الظِّهَارِ باب: ظہار کا بیان۔
حدیث نمبر: 2215
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَالْعَرَقُ مِكْتَلٌ يَسَعُ ثَلَاثِينَ صَاعًا . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ آدَمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ` «عرق» ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ظہار کا بیان۔`
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ «عرق» ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2215]
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ «عرق» ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2215]
فوائد ومسائل:
(العرق) ٹوکرے کی مقدار ان روایات میں ساٹھ صاع یا تیس صاع راجح نہیں ہے۔
جیسے کہ علامہ البانی ؒنے لکھا ہے۔
صحیح مقدار اگلی روایت میں مذکور ہے یعنی پندرہ صاع۔
اسی طرح حدیث:2393 میں بھی مروی ہے۔
(العرق) ٹوکرے کی مقدار ان روایات میں ساٹھ صاع یا تیس صاع راجح نہیں ہے۔
جیسے کہ علامہ البانی ؒنے لکھا ہے۔
صحیح مقدار اگلی روایت میں مذکور ہے یعنی پندرہ صاع۔
اسی طرح حدیث:2393 میں بھی مروی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2215 سے ماخوذ ہے۔