حدیث نمبر: 2205
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ،عَنْ الْحَسَنِ ، فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ ، قَالَ : " ثَلَاثٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حسن سے` «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: «أمرك بيدك» کے معنی ہیں: تمہارا معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے، یعنی تمہیں اختیار ہے، بعض کے نزدیک اس سے ایک طلاق واقع ہوتی ہے، اور حسن بصری سے مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی، لیکن ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی مذکورہ حدیث نمبر (۲۲۰۳) سے معلوم ہوا کہ کچھ واقع نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2204), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود وانظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 14992، 18537) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورت سے یہ کہنا کہ تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے۔`
حسن سے «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2205]
فوائد ومسائل:
یہ تابعی کا قول ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان نہیں ہے، علاوہ ازیں مذکورہ دونوں روایات سندا ضعیف ہیں۔
بہرحال اگر شوہر نے اس جملے سے طلاق مراد لی ہو تو طلاو ہوجائے گی مگر ایک طلاق ہوگی۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2205 سے ماخوذ ہے۔