حدیث نمبر: 2188
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ بِلَا إِخْبَارٍ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " بَقِيَتْ لَكَ وَاحِدَةٌ ، قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ لِمَعْمَرٍ : مَنْ أَبُو الْحَسَنِ هَذَا ؟ لَقَدْ تَحَمَّلَ صَخْرَةً عَظِيمَةً ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو الْحَسَنِ هَذَا رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَكَانَ مِنَ الْفُقَهَاءِ ، رَوَى الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ أَحَادِيثَ . قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو الْحَسَنِ مَعْرُوفٌ وَلَيْسَ الْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عثمان بن عمر کہتے ہیں کہ` ہمیں علی نے خبر دی ہے آگے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مذکور ہے لیکن عنعنہ کے صیغے کے ساتھ ہے نہ کہ «أخبرنا» کے صیغے کے ساتھ ، اس میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : تیرے لیے ایک طلاق باقی رہ گئی ہے ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ فرمایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا کہ یہ ابوالحسن کون ہیں ؟ انہوں نے ایک بھاری چٹان اٹھا لی ہے ؟ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوالحسن وہی ہیں جن سے زہری نے روایت کی ہے ، زہری کہتے ہیں کہ وہ فقہاء میں سے تھے ، زہری نے ابوالحسن سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوالحسن معروف ہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے ۔

وضاحت:
۱؎: اس جملہ سے اس روایت میں جو کچھ ہے اس کا انکار مقصود ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب تفريع أبواب الطلاق / حدیث: 2188
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2187), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 82
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6561، 18934) (ضعیف) » (عمر بن معتب کی وجہ سے یہ روایت بھی ضعیف ہے)