سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِي سُنَّةِ طَلاَقِ الْعَبْدِ باب: غلام کی طلاق میں سنت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2187
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ عُتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ ، هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنی نوفل کے غلام ابوحسن نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے` اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں کوئی لونڈی تھی تو اس نے اسے دو طلاق دے دی اس کے بعد وہ دونوں آزاد کر دیئے گئے ، تو کیا غلام کے لیے درست ہے کہ وہ اس لونڈی کو نکاح کا پیغام دے ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ دیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3457 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´غلام کے طلاق دینے کا بیان۔`
ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کر دیے گئے۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر تم اس سے رجوع کر لو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا، یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3457]
ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کر دیے گئے۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر تم اس سے رجوع کر لو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا، یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3457]
اردو حاشہ: (1) یہ مخالفت سند اور متن دونوں میں موجود ہے۔ متن میں مخالفت تو واضح ہے‘ سند میں مخالفت یہ ہے کہ معمر نے عن الحسن مولیٰ بنی نوفل کہا ہے جو کہ وہم ہے۔ صحیح ابو الحسن مولیٰ بنی نوفل ہے جیسا کہ علی بن مبارک کی سابقہ راویت میں ہے۔
(2) مذکورہ وہم کی نسبت معمر کی طرف کرنا محل نظر ہے۔ امام مزی رحمہ اللہ تحفۃ الاشراف میں لکھتے ہیں: ”اس وہم کی نسبت معمر یا ان کے شاگرد عبدالرزاق کی طرف کرنا محل نظر ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل اور محمد بن عبدالملک بن زنجویہ اور دیگر کئی لوگ اس راویت کو عن عبدالرزاق عن معمر کی سند سے بیان کرتے ہیں لیکن ان تمام نے عن ابی الحسن ہی کہا ہے۔ (جو کہ صحیح ہے صرف نسائی میں عن الحسن ہے‘ لہٰذا یہ سہو یا توخود امام نسائی رحمہ اللہ کو لگا ہے یا ان کے استاد محمد بن رافع کو۔) واللہ أعلم۔ دیکھیے: (تحفة الأشراف بمعرفة الاأطراف: 5/274) یعنی معمر کی راویت بھی علی بن مبارک کی طرح عن ابی الحسن ہی ہے۔ معمر نے علی بن مبارک کی مخالفت نہیں کی اور مصنف رحمہ اللہ کا ان کے وہم کی طرف اشارہ درست نہیں بلکہ وہم کسی اور کو لگا ہے‘ امام نسائی رحمہ اللہ کو یا ان کے استاد محمد بن رافع کو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 28/337،338)
(3) آزاد مرد کو تین طلاقوں کا اختیار ہے مگر غلام کو دو طلاقوں کا۔ راوئ حدیث کا حق بھی حاصل ہوگیا‘ لہٰذا وہ رجوع کرسکتے تھے۔ اور اگر عدت گزر چکی ہو تو وہ نیا نکاح بھی کرسکتے ہیں۔ ممکن ہے انہوں نے دو طلاقیں اکٹھی دی ہوں۔ اس صورت میں وہ ایک کے قائم مقام تھیں اور انہیں رجوع کا حق حاصل تھا۔ پھر معنیٰ ہوں گے‘ ”اگر تو اس سے رجوع کرے تو وہ تیرے پاس آجائے گی اور اسے ایک طلاق پڑ گئی۔“ واللہ أعلم۔ ویسے یہ اور اگلی دونوں روایات ضعیف ہیں۔
(2) مذکورہ وہم کی نسبت معمر کی طرف کرنا محل نظر ہے۔ امام مزی رحمہ اللہ تحفۃ الاشراف میں لکھتے ہیں: ”اس وہم کی نسبت معمر یا ان کے شاگرد عبدالرزاق کی طرف کرنا محل نظر ہے کیونکہ امام احمد بن حنبل اور محمد بن عبدالملک بن زنجویہ اور دیگر کئی لوگ اس راویت کو عن عبدالرزاق عن معمر کی سند سے بیان کرتے ہیں لیکن ان تمام نے عن ابی الحسن ہی کہا ہے۔ (جو کہ صحیح ہے صرف نسائی میں عن الحسن ہے‘ لہٰذا یہ سہو یا توخود امام نسائی رحمہ اللہ کو لگا ہے یا ان کے استاد محمد بن رافع کو۔) واللہ أعلم۔ دیکھیے: (تحفة الأشراف بمعرفة الاأطراف: 5/274) یعنی معمر کی راویت بھی علی بن مبارک کی طرح عن ابی الحسن ہی ہے۔ معمر نے علی بن مبارک کی مخالفت نہیں کی اور مصنف رحمہ اللہ کا ان کے وہم کی طرف اشارہ درست نہیں بلکہ وہم کسی اور کو لگا ہے‘ امام نسائی رحمہ اللہ کو یا ان کے استاد محمد بن رافع کو۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 28/337،338)
(3) آزاد مرد کو تین طلاقوں کا اختیار ہے مگر غلام کو دو طلاقوں کا۔ راوئ حدیث کا حق بھی حاصل ہوگیا‘ لہٰذا وہ رجوع کرسکتے تھے۔ اور اگر عدت گزر چکی ہو تو وہ نیا نکاح بھی کرسکتے ہیں۔ ممکن ہے انہوں نے دو طلاقیں اکٹھی دی ہوں۔ اس صورت میں وہ ایک کے قائم مقام تھیں اور انہیں رجوع کا حق حاصل تھا۔ پھر معنیٰ ہوں گے‘ ”اگر تو اس سے رجوع کرے تو وہ تیرے پاس آجائے گی اور اسے ایک طلاق پڑ گئی۔“ واللہ أعلم۔ ویسے یہ اور اگلی دونوں روایات ضعیف ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3457 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2082 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´دو طلاق دینے کے بعد لونڈی کے خریدنے کا بیان۔`
ابوالحسن مولی بنی نوفل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہو جائیں، کیا وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں، کر سکتا ہے، ان سے پوچھا گیا: یہ فیصلہ کس کا ہے؟ تو وہ بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کر کے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2082]
ابوالحسن مولی بنی نوفل کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہو جائیں، کیا وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں، کر سکتا ہے، ان سے پوچھا گیا: یہ فیصلہ کس کا ہے؟ تو وہ بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا: ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کر کے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2082]
اردو حاشہ:
فائدہ: چٹان اٹھانےکا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے یہ روایت کر کے اپنےسر پر بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔
یہ روایت ضعیف اور نا قابل استدلال ہے۔
فائدہ: چٹان اٹھانےکا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے یہ روایت کر کے اپنےسر پر بڑی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔
یہ روایت ضعیف اور نا قابل استدلال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2082 سے ماخوذ ہے۔