سنن ابي داود
كتاب تفريع أبواب الطلاق— کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
باب فِيمَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا باب: عورت کو شوہر کے خلاف بھڑکانے اور نفرت دلانے والے کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2175
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا أَوْ عَبْدًا عَلَى سَيِّدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5170 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غلام کو آقا کے خلاف ورغلانے کی مذمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو کسی کی بیوی یا غلام و لونڈی کو (اس کے شوہر یا مالک کے خلاف) ورغلائے تو وہ ہم میں سے نہیں۔" [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5170]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو کسی کی بیوی یا غلام و لونڈی کو (اس کے شوہر یا مالک کے خلاف) ورغلائے تو وہ ہم میں سے نہیں۔" [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5170]
فوائد ومسائل:
کسی کے گھر میں یا کسی ادارے کے رواں دواں نظام میں فتنہ فساد ڈال دینا انتہائی گناہ کا کام ہے۔
رسول اللہ ﷺنے ایسے فتنہ انگیز شخص سے لاتعلقی کا اظہار فرمایا ہے۔
کسی کے گھر میں یا کسی ادارے کے رواں دواں نظام میں فتنہ فساد ڈال دینا انتہائی گناہ کا کام ہے۔
رسول اللہ ﷺنے ایسے فتنہ انگیز شخص سے لاتعلقی کا اظہار فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5170 سے ماخوذ ہے۔