حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ لِي جَارِيَةً أَطُوفُ عَلَيْهَا وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ ، فَقَالَ : " اعْزِلْ عَنْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " ، قَالَ : فَلَبِثَ الرَّجُلُ ، ثُمَّ أَتَاهُ ، فَقَالَ : إِنَّ الْجَارِيَةَ قَدْ حَمَلَتْ ، قَالَ : " قَدْ أَخْبَرْتُكَ أَنَّهُ سَيَأْتِيهَا مَا قُدِّرَ لَهَا " .
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انصار کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ : میری ایک لونڈی ہے جس سے میں صحبت کرتا ہوں اور اس کا حاملہ ہونا مجھے پسند نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاہو تو عزل کر لو ، جو اس کے مقدر میں ہے وہ تو ہو کر رہے گا “ ، ایک مدت کے بعد وہ شخص آ کر کہنے لگا ، کہ لونڈی حاملہ ہو گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ” میں نے تو کہا ہی تھا کہ جو اس کے مقدر میں ہے وہ ہو کر رہے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
وَسَانِيَتُنَا: اَلسَّانِيَةُ: وہ اونٹ جس سے پانی کھینچا جاتا ہے، چونکہ وہ کنویں سے پانی لاتی تھی اس لیے اس کو سانیہ کا نام دیا۔
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ۱؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: ” یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1136]
وضاخت: 1؎:
عزل یہ ہے کہ جماع کے وقت انزال قریب ہوتو آدمی اپناعضوتناسل شرمگاہ سے باہر نکال کر منی باہر نکال دے تاکہ عورت حاملہ نہ ہو۔
2؎:
اس حدیث میں صرف اس بات کا بیان ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال غلط ہے کیوں کہ عزل کے باوجود جس نفس کی اس مرد و عورت سے تخلیق اللہ کو مقصود ہوتی ہے اس کی تخلیق ہوہی جاتی ہے، جیسا کہ ایک صحابی نے لونڈی سے عزل کیا اس کے باوجود حمل ٹھہر گیا۔
اس لیے یہ ’’مودودۃ صغریٰ‘‘ نہیں ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک لونڈی ہے میں اس سے عزل کرتا ہوں ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اس کے پاس آ کر رہے گا “، کچھ دنوں کے بعد وہ آدمی حاضر ہوا اور کہا: لونڈی حاملہ ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے “ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 89]
تدبیر کے باوجود تقدیر غالب آ جاتی ہے لیکن یہ چیز تدبیر کے استعمال میں رکاوٹ نہیں۔
انسان کو اپنی کوشش کرنی چاہیے اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔
(2)
عزل کا مطلب یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی یا لونڈی سے مجامعت میں مشغول ہو، جب محسوس کرے کہ انزال قریب ہے تو پیچھے ہٹ جائے تاکہ انزال باہر ہو اور حمل قرار نہ پائے۔
یہ گویا اس دور کا خاندانی منصوبہ بندی کا طریقہ تھا۔
(3)
لونڈی سے عزل جائز ہے کیونکہ اس کا امید سے ہونا، مالک کی خدمت میں رکاوٹ کا باعث ہوتا ہے اور لونڈی رکھنے کا بڑا مقصد گھر کا کام کاج اور مالک کی خدمت ہے، البتہ آزاد عورت (بیوی)
سے عزل کرنا اس کی اجازت سے مشروط ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے، اور قرآن اترا کرتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1927]
فائده:
نزول وحی کے زمانے میں اس کی صریح ممانعت نازل نہیں ہوئی، اس سے اس عمل کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عزل کرنا درست ہے، یعنی شریعت اسلامیہ نے اس کی اجازت دی ہے (یعنی بیوی سے صحبت کرنا اور منی باہر خارج کرنا)
اس حدیث سے تقریری حدیث کا حجت ہونا ثابت ہوتا ہے، جو کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کیا گیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا ہو، وہ تقریری حدیث ہے، اگر کسی تقریری حدیث میں ابہام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تصحیح فرما دیتے، جبکہ اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کوئی لاکھ عزل کرتا رہے، جب اللہ فیصلہ کر دیں، جس نطفے میں اللہ نے اولاد رکھی ہو، وہ استعمال ہو ہی جاتا ہے، اور اولاد دینا کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اور نہ ہی اولاد لینا، یہ کام انده صرف اللہ تعالیٰ کا ہے۔