سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب فِي الإِكْسَالِ باب: دخول سے انزال کے بغیر غسل کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 217
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ " ، وَكَانَ أَبُو سَلَمَةَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی پانی سے ہے “ ( یعنی منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے ) اور ابوسلمہ ایسا ہی کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ وہ اسے منسوخ نہیں مانتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ابتدائے اسلام میں ایک رخصت`
«. . . عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ . . .»
”. . . ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پانی سے ہے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 217]
«. . . عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ . . .»
”. . . ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پانی سے ہے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 217]
فوائد و مسائل:
➊ بعض صحابہ و تابعین کی یہی رائے رہی ہے کہ جب تک انزال نہ ہو غسل واجب نہیں ہوتا، مگر اکثر اسی بات کے قائل تھے جس کا اوپر بیان ہوا کہ یہ ابتدائے اسلام میں رخصت تھی، بعدازاں اتصال ختان سے غسل واجب کر دیا گیا، اور اب یہی بات صحیح ہے۔ صحیح مسلم میں ان روایات کو جمع کر دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم حديث: 343 وما بعد]
➊ بعض صحابہ و تابعین کی یہی رائے رہی ہے کہ جب تک انزال نہ ہو غسل واجب نہیں ہوتا، مگر اکثر اسی بات کے قائل تھے جس کا اوپر بیان ہوا کہ یہ ابتدائے اسلام میں رخصت تھی، بعدازاں اتصال ختان سے غسل واجب کر دیا گیا، اور اب یہی بات صحیح ہے۔ صحیح مسلم میں ان روایات کو جمع کر دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم حديث: 343 وما بعد]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 217 سے ماخوذ ہے۔