سنن ابي داود
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ وَمُبَاشَرَتِهَا باب: حائضہ عورت سے جماع اور اس سے مباشرت (بدن سے بدن ملا کر لیٹنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2166
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ ، وَإِنْ أَصَابَ ، تَعْنِي ثَوْبَهُ ، مِنْهُ شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی ، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے ، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے ، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´حائضہ عورت سے جماع اور اس سے مباشرت (بدن سے بدن ملا کر لیٹنے) کا بیان۔`
خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2166]
خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2166]
فوائد ومسائل:
فوائد پیچھے حدیث 269 میں گزر چکے ہیں۔
فوائد پیچھے حدیث 269 میں گزر چکے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2166 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 285 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حائضہ کے ساتھ لیٹنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی چادر میں رات گزارتے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے (خون) میں سے کچھ لگ جاتا تو صرف اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ کرتے، اور اسی کپڑے میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر دوبارہ اگر آپ کو میرے (خون) میں سے کچھ لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 285]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی چادر میں رات گزارتے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے (خون) میں سے کچھ لگ جاتا تو صرف اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ کرتے، اور اسی کپڑے میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر دوبارہ اگر آپ کو میرے (خون) میں سے کچھ لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 285]
285۔ اردو حاشیہ:
➊ کپڑوں پر جتنی جگہ نجاست لگی ہو، صرف اتنی جگہ دھونا کافی ہے، سارا کپڑا دھونے کی ضرورت نہیں اور اس قسم کے کپڑے میں بلا تردد نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
➋ دوبارہ لیٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے اٹھتے تھے، وقفے کے بعد پھر لیٹ جاتے ہوں گے۔ «والله أعلم»
➊ کپڑوں پر جتنی جگہ نجاست لگی ہو، صرف اتنی جگہ دھونا کافی ہے، سارا کپڑا دھونے کی ضرورت نہیں اور اس قسم کے کپڑے میں بلا تردد نماز پڑھی جا سکتی ہے۔
➋ دوبارہ لیٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کے لیے اٹھتے تھے، وقفے کے بعد پھر لیٹ جاتے ہوں گے۔ «والله أعلم»
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 285 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 372 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حائضہ عورت کے ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ کو مجھ سے کچھ لگ جاتا تو آپ اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی کپڑا میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر اگر دوبارہ مجھ سے آپ کو کچھ لگ جاتا تو آپ پھر اسی طرح کرتے، صرف اسی جگہ کو دھوتے اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 372]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے تھے، اور میں حائضہ ہوتی، اگر آپ کو مجھ سے کچھ لگ جاتا تو آپ اسی جگہ کو دھوتے، اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی کپڑا میں نماز ادا کرتے، پھر واپس آ کر لیٹ جاتے، پھر اگر دوبارہ مجھ سے آپ کو کچھ لگ جاتا تو آپ پھر اسی طرح کرتے، صرف اسی جگہ کو دھوتے اس سے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 372]
372۔ اردو حاشیہ: دیکھیے، حدیث: 285، 286 اور ان کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 372 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 774 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جسم سے لگے کپڑے میں نماز پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جسم سے لگے ایک ہی کپڑے میں سوتے اور میں حائضہ ہوتی، اگر مجھ سے آپ کو کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ جتنی جگہ میں لگتا اسی کو دھو لیتے اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر میرے ساتھ لیٹتے، اگر پھر مجھ سے کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ پھر ویسے ہی کرتے، اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 774]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اکرم ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جسم سے لگے ایک ہی کپڑے میں سوتے اور میں حائضہ ہوتی، اگر مجھ سے آپ کو کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ جتنی جگہ میں لگتا اسی کو دھو لیتے اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے، اور اسی میں نماز پڑھتے، پھر واپس آ کر میرے ساتھ لیٹتے، اگر پھر مجھ سے کچھ (خون) لگ جاتا تو آپ پھر ویسے ہی کرتے، اور اس سے آگے تجاوز نہ فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب القبلة/حدیث: 774]
774۔ اردو حاشیہ: اگر عورت کے جسم والا کپڑا پاک ہو تو اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، خواہ اس نے اسے حیض کی حالت میں پہنا ہو۔ اگر کچھ خون لگ گیا ہو تو اتنی جگہ دھو لی جائے، باقی جگہ دھونے کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 774 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 269 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حائضہ عورت سے جماع کے سوا آدمی سب کچھ کر سکتا ہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رات میں ایک کپڑے میں سوتے اور میں پورے طور سے حائضہ ہوتی، اگر میرے حیض کا کچھ خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے بدن) کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی مقام کو دھو ڈالتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے، اور اگر اس میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو لگ جاتا، تو آپ صرف اسی جگہ کو دھو لیتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 269]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں رات میں ایک کپڑے میں سوتے اور میں پورے طور سے حائضہ ہوتی، اگر میرے حیض کا کچھ خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے بدن) کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اسی مقام کو دھو ڈالتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے، اور اگر اس میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو لگ جاتا، تو آپ صرف اسی جگہ کو دھو لیتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 269]
269۔ اردو حاشیہ:
➊ دین و شریعت اور طہارت کی حدود واضح کرنے کے لیے ہی یہ مخفی حقائق بیان ہوئے ہیں تاکہ امت کے لیے دنیا و آخرت میں آسانی رہے، ورنہ عام مسلمان میاں بیوی کے لیے اپنے مخفی امور کا ذکر کرنا درست نہیں ہے۔
➋ خون حیض نجس ہے۔
➌ جو حصہ جسم کا یا کپڑے کا آلودہ ہو اسی قدر دھونا واجب ہے، نہ کہ سارا جسم یا سارا کپڑا۔
➊ دین و شریعت اور طہارت کی حدود واضح کرنے کے لیے ہی یہ مخفی حقائق بیان ہوئے ہیں تاکہ امت کے لیے دنیا و آخرت میں آسانی رہے، ورنہ عام مسلمان میاں بیوی کے لیے اپنے مخفی امور کا ذکر کرنا درست نہیں ہے۔
➋ خون حیض نجس ہے۔
➌ جو حصہ جسم کا یا کپڑے کا آلودہ ہو اسی قدر دھونا واجب ہے، نہ کہ سارا جسم یا سارا کپڑا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 269 سے ماخوذ ہے۔