سنن ابي داود
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب فِي جَامِعِ النِّكَاحِ باب: نکاح کے مختلف مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 2163
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : " إِنَّ الْيَهُودَ يَقُولُونَ : إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ فِي فَرْجِهَا مِنْ وَرَائِهَا كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى : نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ سورة البقرة آية 223 ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ` میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورۃ البقرہ : ۲۲۳ ) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی کھڑے اور بیٹھے، آگے سے اور پیچھے سے، چت لٹا کر یا کروٹ بشرطیکہ دخول فرج میں ہو نہ کہ دبر میں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´نکاح کے مختلف مسائل کا بیان۔`
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» (سورۃ البقرہ: ۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2163]
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہو گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» (سورۃ البقرہ: ۲۲۳) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2163]
فوائد ومسائل:
یعنی یہودیوں کا قول وہم باطل ہے اور زوجین کو باہم ہر طرح سے تلذذ کی اجازت ہے۔
صرف شرط وہی ہے جو اوپر کی حدیث میں ذکر آئی اور مزید یہ کہ ایام حیض بھی نہ ہوں۔
یعنی یہودیوں کا قول وہم باطل ہے اور زوجین کو باہم ہر طرح سے تلذذ کی اجازت ہے۔
صرف شرط وہی ہے جو اوپر کی حدیث میں ذکر آئی اور مزید یہ کہ ایام حیض بھی نہ ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2163 سے ماخوذ ہے۔