حدیث نمبر: 2159
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ " حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا بِحَيْضَةٍ " ، زَادَ فِيهِ : حَيْضَةٍ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ صَحِيحٌ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ ، زَادَ : " وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : الْحَيْضَةُ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ ، وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کر لے “ ، اس میں «بحيضة» کا اضافہ ہے ، اور یہ ابومعاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح ہے ، اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے : ” اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے “ ، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابومعاویہ کا وہم ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2159
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (4019), انظر الحديث السابق (2158)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 3615) (حسن) »