سنن ابي داود
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب فِي وَطْءِ السَّبَايَا باب: قیدی لونڈیوں سے جماع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2157
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَرَفَعَهُ ، أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسَ : " لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ ، وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا : ” کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے ، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آ جائے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 962 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان`
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا ” حاملہ عورت جب تک وضع حمل نہ کر لے، اس سے جماع نہ کیا جائے نیز غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک وطی نہ کی جائے جب تک اسے ایک ماہواری نہ آ جائے۔ “ اس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دارقطنی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اس کا شاہد مروی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 962»
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے قیدیوں کے متعلق فرمایا ” حاملہ عورت جب تک وضع حمل نہ کر لے، اس سے جماع نہ کیا جائے نیز غیر حاملہ سے بھی اس وقت تک وطی نہ کی جائے جب تک اسے ایک ماہواری نہ آ جائے۔ “ اس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ دارقطنی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اس کا شاہد مروی ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 962»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في وطء السبايا، حديث:2157، والحاكم:2 /195 وصححه علي شرط مسلم، وحديث ابن عباس: أخرجه الدارقطني:3 /257 سنده ضعيف.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے‘ نیز ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنن ابوداود (اردو‘ طبع دارالسلام) میں سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ طیالسی کی حدیث اس سے کفایت کرتی ہے۔
ان کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین کی بحث سے بھی تصحیح حدیث والی رائے ہی أقرب إلی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل:۱ /۲۰۰. ۲۰۲‘ رقم:۱۸۷‘ وصحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني‘ رقم:۱۸۷۳)
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في وطء السبايا، حديث:2157، والحاكم:2 /195 وصححه علي شرط مسلم، وحديث ابن عباس: أخرجه الدارقطني:3 /257 سنده ضعيف.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے‘ نیز ہمارے فاضل محقق نے مذکورہ روایت کو سنن ابوداود (اردو‘ طبع دارالسلام) میں سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ طیالسی کی حدیث اس سے کفایت کرتی ہے۔
ان کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
علاوہ ازیں دیگر محققین کی بحث سے بھی تصحیح حدیث والی رائے ہی أقرب إلی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (إرواء الغلیل:۱ /۲۰۰. ۲۰۲‘ رقم:۱۸۷‘ وصحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني‘ رقم:۱۸۷۳)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 962 سے ماخوذ ہے۔