سنن ابي داود
كتاب النكاح— کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
باب فِي وَطْءِ السَّبَايَا باب: قیدی لونڈیوں سے جماع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا ، فَقَالَ : " لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا " ، قَالُوا : نَعَمْ ، فَقَالَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ " .
´ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے “ ، لوگوں نے کہا : ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے ، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں “ ۔