حدیث نمبر: 2149
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ : " يَا عَلِيُّ ، لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ ، فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : علی ! ( اجنبی عورت پر ) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے ، دوسری جائز نہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیوں کہ پہلی نظر بغیر قصد و اختیار کے پڑی ہے اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں، اور دوسری نظر چونکہ قصداً ہو گی اس لئے اس پر گناہ ہو گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب النكاح / حدیث: 2149
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (2777), شريك القاضي مدلس وعنعن, وللحديث شاھد ضعيف عند الحاكم (3/ 123), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأدب 28 (2777)، ( تحفة الأشراف: 2007)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/159، 5/351، 357) (حسن) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2777

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2777 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´(غیر محرم پر) اچانک نظر پڑ جانے کا بیان۔`
بریدہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! نظر کے بعد نظر نہ اٹھاؤ، کیونکہ تمہارے لیے پہلی نظر (معاف) ہے اور دوسری (معاف) نہیں ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2777]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اگر اچانک پہلی مرتبہ تمہاری نگاہ کسی پر پڑ گئی تو یہ معاف ہے، لیکن تمہارا دوبارہ دیکھنا قابل گرفت ہو گا۔
(اور پہلی والی بھی فوراً ہٹا لینی ہو گی)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2777 سے ماخوذ ہے۔