حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَي ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا جُعِلَ ذَلِكَ رُخْصَةً لِلنَّاسِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِقِلَّةِ الثِّيَابِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْغُسْلِ وَنَهَى عَنْ ذَلِكَ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : يَعْنِي الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ رخصت ابتدائے اسلام میں کپڑوں کی کمی کی وجہ سے دی تھی ( کہ اگر کوئی دخول کرے اور انزال نہ ہو تو غسل واجب نہ ہو گا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دخول کرنے اور انزال نہ ہونے کی صورت میں غسل کرنے کا حکم فرما دیا ، اور غسل نہ کرنے کو منع فرما دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «نهى عن ذلك» یعنی ممانعت سے مراد «الماء من الماء» ( غسل منی نکلنے کی صورت میں واجب ہے ) والی حدیث پر عمل کرنے سے منع کر دیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (448), وصرح الزھري بالسماع من سھل بن سعد عند ابن خزيمة (226) وغيره
تخریج حدیث «أخرجه : الترمذي/كتاب الطهارة / باب: ما جاء أن الماء من الماء/ ح: 111 ، 110، وابن ماجه/أبواب التيمم/ باب : ما جاء فى وجوب الغسل من التقاء الختانين/ ح: 609 من حديث ابن شهاب الزهري عن سهل بن سعد به، وقال الترمذي : ”حسن صحيح“، وصرح الزهري بالسماع من سهل بن سعد عند ابن خزيمة ، ح:226 وغيره ، رواه البيهقي : 1/ 165 من حديث أبى داود به، (تحفة الأشراف: 27) (صحيح)» ¤ اگلی سند نیز دیگر اسانید سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ، ورنہ مؤلف کی سند میں ایک مبہم راوی ہیں ، علماء کی تصریح کے مطابق یہ مبہم راوی ابوحازم ہیں ، نیز زہری خود سہل سے بھی براہ راست روایت کرتے ہیں۔ دیکھئے : حاشیہ ترمذی از علامہ احمد محمد شاکر ۔
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 215 | سنن ابن ماجه: 609 | سنن ترمذي: 111

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 215 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ابتدائے اسلام میں زوجین کے لیے اجازت`
«. . . عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يَفْتُونَ أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ فِي بَدْءِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ . . .»
. . . سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو یہ فتوی دیا کرتے تھے کہ پانی، پانی سے (لازم آتا) ہے (یعنی منی کے انزال ہونے پر ہی غسل واجب ہوتا ہے) یہ رخصت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں دی تھی پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم دیا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 215]
فوائد و مسائل:
➊ تفصیل اس مسئلے کی یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں زوجین کے لیے اجازت تھی کہ مباشرت کے موقع پر اگر انزال نہ ہو تو غسل واجب نہیں۔ اس کیفیت کو ایک بلیغ انداز میں بیان فرمایا: ’’پانی پانی سے (لازم آتا) ہے۔ یعنی غسل کا پانی منی کا پانی نکلنے ہی پر لازم آتا ہے، مگر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور فرمایا: ’’ختنہ ختنے سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔ جیسے کہ درج ذیل احادیث میں ذکر آ رہا ہے۔ اس لیے مذکورہ بالا الفاظ اور احکام اب احتلام کی صورت کے ساتھ مخصوص ہو گئے ہیں۔ یعنی اگر خواب میں کچھ دیکھا ہو اور جسم یا کپڑوں پر تری اور اثر نمایاں ہو یا کسی اور صورت میں منی کا اخراج ہو تو غسل واجب ہو گا ورنہ نہیں۔ البتہ بیوی سے ہم بستری کرنے کے بعد ہر صورت میں غسل واجب ہو گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 215 سے ماخوذ ہے۔